اہلبیت نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے کل بدھ ۲۷ فروری کو عصر کے وقت ہندوستان کے وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے کہا: اس وقت علاقہ میں بہت نازک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بعض انتہا پسند دھشت گردی گروپوں کی وجہ سے علاقہ میں امنیت کی بحالی ایک دشوار عمل ہو گیا ہے۔ شام کا مسئلہ بھی مسئلہ افغانستان کے ساتھ اضافہ ہو گیا ہے اور کچھ ایسے ہاتھ ان کے پیچھے ہیں جن کے منصوبے یہ ہیں کہ جو ممالک ترقی کی راہ میں گامزن ہیں انہیں ان کاموں میں الجھا دیں۔انہوں نے کہا: غیر ملکی افواج افغانستان کو ایسے شرائط میں ترک کر رہی ہے کہ اس ملک میں دھشت گردی ابھی عروج پر ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایران ہندوستان اور روس ایک مزید ذمہ داری کا احساس کریں۔انہوں نے کہا: میں سوچتا ہوں کہ ایران اور ہندوستان دھشت گردی کا مقابلہ کرنے میں مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور بہتر ہے اس سلسلے میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ اور نیز ہم حیدر آباد کے حالیہ دھشت گردی واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: دنیا کو اس وقت کسی ایک عالمی لیڈر کی ضرورت نہیں ہے بلکہ علاقہ میں عاقل اور باشعور طاقتوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ تجربہ یہ بتا رہا ہے کہ سپر پاور طاقتیں بجائے اس کے کہ دنیا کو بنائیں ان کے لیے درد سر ایجاد کرتی ہیں لہذا ہم ہندوستان جیسے ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو علاقہ میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک اہم عامل سمجھتے ہیں۔ علی لاریجانی نےایران اور ہندوستان کے اقتصادی میدان میں روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے تیل اور گیس کے سلسلے میں واضح آراء پیش کی ہیں تیل اور گیس کی فروخت یا گیس پائپ لائن کا پروجیکٹ وغیرہ میں ایران ہندوستان کے ساتھ ہمکاری کے لیےہاتھ بڑھاتا ہے اور نیز ہندوستان پٹروکیمیکل کے میدان میں ایران میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ یہ پروجیکٹ ہندوستان کے لیے مستقبل میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ایران پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا: اس سلسلے میں مشکلات بھی پائی جاتی ہیں کہ انہیں دور کیا جا سکتا ہے۔ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس ملاقات میں دستور دیا کہ مربوطہ وزراء اس سلسلے میں مذاکرات کا سلسلہ آغاز کریں۔علی لاریجانی نے کہا: دوستوں سے ہماری گفتگو چل رہی ہے ہم نے ہندوستان اور ایران کے تاجروں سے گفتگو کی ہے چند چیزوں کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے منجملہ بینکی شعبہ ہیں لائف اینشورینس ہے ویزا کی سہولت ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ کچھ ہمارے بینک اپنے شعبہ ہندوستان میں قائم کریں تاکہ آسانی سے تعامل پیدا ہو سکے اور ہم ہندوستان کے بینکی شعبہ جات کا ایران میں استقبال کرتے ہیں۔ہندوستان کے وزیر خارجہ نے اس ملاقات میں کہا: ہم آپ کو ہندوستان میں خوش آمدید کہتے ہیں اور ہمارا گرم سلام رہبر معظم اور صدر جمہوریہ کی خدمت میں پہنچا دیجیے۔سلمان خورشید نے کہا: ہم شام کے واقعات کے سلسلے میں اظہار افسوس کرتے ہیں اور ٹھوس طریقہ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ خود سیریہ کے لوگ ہیں جو اپنے سلسلے میں خود فیصلہ کر سکتے ہیں اپنی مشکل کو حل کر سکتے ہیں اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر باہر سے ان پر کوئی چیز تھونپنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا۔انہوں نے کہا: ہم آپ کے ساتھ موافق ہیں اور سوچتے ہیں کہ جہاں بھی مخصوصا جنوبی ایشیا میں اگر دھشت گردی کی ذہنیت عروج پا جائے گی تو سب کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو گی۔ ہم تیار ہیں اس سلسلے میں بھی آپ کے ساتھ ہاتھ بٹائیں۔ انہوں نے کہا: ایران ہندوستانیوں کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور ہم پارلیمنٹ میں ایران کے ساتھ روابط کو بہت دقیق انداز سے پیش نظر رکھتے ہیں۔ اور یہ ان دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔سلمان خورشید نے کہا: ہم مکمل طور پر تیار ہیں کہ آپ کے ساتھ ہمکاری کریں مخصوصا علاقہ میں موجود مشکلات کو حل کرنے میں ہم آپ کا پورا ساتھ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا: ایران اور ہندوستان علاقہ کے مسائل کے سلسلے میں مشترکہ نقطہ نظر اور موقف رکھتے ہیں مخصوصا افغانستان کے مسائل کو حل کرنے میں ہم آپ کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ اس ملک میں امن و امان برقرار ہو۔ہندوستان کے وزیر خارجہ نے ایران کے ایٹمی پروجیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم آپ کی شجاعانہ اور دلیرانہ استقامت کی داد دیتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہماری نظر میں ایٹمی انرجی کی پیداوار آپ کا مسلمہ حق ہے اور ایران کو پرامن مقاصد کےپیش نظر اپنے اس حق کے حصول کے لیے تلاش کرنا چاہیے اور کسی کے دباو میں نہیں آنا چاہیے۔انہوں نے کہا: ہم ایران کے رہبر معظم کے نظریہ سے مطلع ہیں جو انہوں نے ایٹم بم کی حرمت کے سلسلے میں پیش کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہندوستان ایران کے ایٹمی انرجی کے موضوع سے مکمل با خبر ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد ختم ہو اور ہمارے ساتھ رواط برقرار کرنے کی راہ میں ایک منطقی راہ حل سامنے آئے۔
27 فروری 2013 - 20:30
News ID: 395454
مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے کل نئی دہلی میں ہندوستان کے وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات میں کہا: ایران اور ہندوستان کے درمیان روابط علاقہ میں امن و استحکام کے لیے بہت ضروری ہیں۔